مشروط امکان

مشکل: درمیانی پڑھنے کا وقت: 12 منٹ

نئی معلومات سب کچھ بدل دیتی ہیں

تصور کریں آپ گھر سے نکلنے والے ہیں۔ موسم کی ایپ بتاتی ہے بارش کا 30 فیصد امکان ہے۔ پھر آپ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہیں اور سیاہ بادل آتے نظر آتے ہیں۔ کیا یہ آپ کی رائے بدلتا ہے؟ بالکل۔

0.6 A 0.4 A' 0.3 B 0.7 B' 0.5 B 0.5 B'

یہی مشروط امکان کا بنیادی خیال ہے: کسی چیز کے ہونے کا امکان بدل جاتا ہے جب آپ نئی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ سیاہ بادل دیکھنے کے بعد بارش کا امکان کسی بھی عام دن کے بارش کے امکان سے مختلف ہے۔

مشروط امکان کیا ہے؟

"مشروط" کا مطلب "بشرطیکہ" یا "یہ جانتے ہوئے کہ" ہے۔ مشروط امکان لکھا جاتا ہے:

P(الف | ب) - یعنی "ب ہونے کے بعد الف کا امکان"

"|" نشان کا مطلب "بشرطیکہ" ہے۔

مثال

لاہور کے ایک سکول میں 100 طلبا ہیں۔ 40 لڑکے ہیں، 60 لڑکیاں۔ 20 لڑکے کرکٹ کھیلتے ہیں اور 15 لڑکیاں کرکٹ کھیلتی ہیں۔

اگر آپ بے ترتیب ایک طالب علم چنیں، اس کے کرکٹ کھیلنے کا امکان 35/100 = 0.35 ہے۔

لیکن اگر آپ کو پتا چلے کہ وہ لڑکا ہے: P(کرکٹ | لڑکا) = 20/40 = 0.50

اور اگر لڑکی ہے: P(کرکٹ | لڑکی) = 15/60 = 0.25

نئی معلومات (جنس) نے امکان بدل دیا۔

فارمولا

مشروط امکان کا فارمولا ہے:

P(الف | ب) = P(الف اور ب) ÷ P(ب)

سادہ الفاظ میں: دونوں ایک ساتھ ہونے کا امکان تقسیم شرط کے ہونے کے امکان سے۔

مثال

PBS کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 30 فیصد بالغ باقاعدہ ورزش کرتے ہیں۔ 12 فیصد بالغ ورزش بھی کرتے ہیں اور صحت مند وزن بھی رکھتے ہیں۔ اگر کوئی ورزش کرتا ہے تو صحت مند وزن رکھنے کا امکان کیا ہے؟

P(صحت مند وزن | ورزش) = 0.12 ÷ 0.30 = 0.40 یا 40 فیصد۔

ورزش کرنے والوں میں سے 40 فیصد صحت مند وزن رکھتے ہیں۔

آزادی اور مشروط امکان

پچھلے سبق میں ہم نے سیکھا کہ آزاد واقعات وہ ہیں جہاں ایک واقعے کا ہونا دوسرے کے امکان کو نہیں بدلتا۔ ریاضیاتی زبان میں:

اگر الف اور ب آزاد ہیں تو P(الف | ب) = P(الف)

یعنی ب کے بارے میں جاننا الف کے امکان کو بالکل نہیں بدلتا۔

مثال

آپ سکہ اچھالتے ہیں اور پاسہ پھینکتے ہیں۔ P(چت | پاسے پر 6) = P(چت) = 0.50۔ پاسے کا نتیجہ جاننا سکے کے نتیجے کو نہیں بدلتا - یہ آزاد واقعات ہیں۔

لیکن اگر آپ جانتے ہیں کہ لاہور میں بارش ہوئی، تو ٹریفک جام ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ یہ آزاد نہیں - بارش ٹریفک کو متاثر کرتی ہے۔

طب میں مشروط امکان

مشروط امکان طب میں بہت اہم ہے اور اکثر غلط سمجھا جاتا ہے۔

مثال

ایک بیماری 1,000 میں سے 1 شخص کو ہوتی ہے۔ ایک ٹیسٹ 99 فیصد درست ہے (بیمار کو بیمار اور صحت مند کو صحت مند بتاتا ہے)۔ آپ کا ٹیسٹ مثبت آتا ہے۔ آپ کو واقعی بیماری ہونے کا امکان کیا ہے؟

10,000 لوگوں میں سے: 10 واقعی بیمار ہیں۔ ان 10 میں سے 99 فیصد مثبت آئیں گے - تقریباً 10 مثبت۔

باقی 9,990 صحت مند ہیں۔ ان میں سے 1 فیصد غلط مثبت - تقریباً 100 مثبت۔

کل مثبت: 10 + 100 = 110۔ ان میں سے واقعی بیمار: 10۔

P(بیمار | مثبت ٹیسٹ) = 10/110 ≈ 0.09 یا صرف 9 فیصد!

99 فیصد درست ٹیسٹ کے باوجود آپ کے واقعی بیمار ہونے کا امکان صرف 9 فیصد ہے۔ یہ اس لیے کہ بیماری خود بہت نایاب ہے۔

روزمرہ زندگی میں مشروط امکان

آپ مشروط امکان ہر روز استعمال کرتے ہیں:

  • ٹریفک: "جمعے کو شام 5 بجے ٹریفک جام ہونے کا امکان زیادہ ہے" - دن اور وقت شرط ہیں۔
  • کرکٹ: "اگر پٹی ٹرننگ ہے تو سپنر کی کامیابی کا امکان بڑھ جاتا ہے" - پٹی کی حالت شرط ہے۔
  • امتحان: "اگر طالب علم نے ساری کتاب پڑھی ہے تو پاس ہونے کا امکان 95 فیصد ہے؛ نہیں پڑھی تو 40 فیصد" - پڑھائی شرط ہے۔
  • موسم: "اگر صبح آسمان صاف ہے تو دوپہر میں بارش کا امکان 10 فیصد ہے؛ اگر بادل ہیں تو 60 فیصد۔"

ایک اہم تنبیہ: ترتیب اہم ہے

P(الف | ب) اور P(ب | الف) عموماً مختلف ہوتے ہیں۔ یہ بہت عام غلطی ہے۔

مثال

P(بارش | بادل) بمقابلہ P(بادل | بارش)۔ بادل ہونے پر بارش کا امکان شاید 40 فیصد ہے۔ لیکن بارش ہونے پر بادلوں کا موجود ہونے کا امکان تقریباً 100 فیصد ہے۔ بالکل مختلف اعداد!

اسی طرح: P(مجرم | ثبوت ملا) بمقابلہ P(ثبوت ملا | مجرم)۔ ان کو ملانا سنگین غلطیوں کی طرف لے جاتا ہے۔

اہم نکتہ

مشروط امکان بتاتا ہے کہ نئی معلومات ملنے کے بعد کسی واقعے کا امکان کیسے بدلتا ہے۔ فارمولا P(الف|ب) = P(الف اور ب) ÷ P(ب) ہے۔ یہ طب، موسم، کھیل اور روزمرہ فیصلوں میں ہر جگہ استعمال ہوتا ہے۔ سب سے اہم بات: P(الف|ب) اور P(ب|الف) ایک نہیں ہیں - انہیں ملانا سب سے عام اور سنگین غلطیوں میں سے ایک ہے۔