شماریات کا سب سے غلط سمجھا جانے والا عدد
اگر آپ نے کبھی سائنسی مضمون پڑھا ہے تو شاید "p < 0.05" یا "نتیجہ شماریاتی طور پر اہم تھا" جیسے جملے دیکھے ہوں گے۔ ان جملوں کے پیچھے ایک عدد ہے جسے P-value کہتے ہیں۔ یہ شماریات میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا - اور سب سے زیادہ غلط سمجھا جانے والا - تصور ہے۔
P-value کیا ہے؟
سادہ الفاظ میں: P-value بتاتا ہے کہ اگر واقعی کوئی اثر نہ ہوتا (صفری فرضیہ سچ ہوتا) تو آپ کو یہ نتیجہ (یا اس سے زیادہ انتہائی) اتفاق سے ملنے کا کتنا امکان تھا۔
فرض کریں ایک سکہ ہے اور آپ جانچنا چاہتے ہیں کہ یہ منصفانہ ہے یا نہیں۔ آپ 100 بار اچھالتے ہیں اور 65 بار چت آتا ہے۔
H₀: سکہ منصفانہ ہے (چت کا امکان = 0.50)
سوال: اگر سکہ واقعی منصفانہ ہوتا تو 100 میں سے 65 یا اس سے زیادہ چت آنے کا کتنا امکان تھا؟
حساب بتاتا ہے: P-value ≈ 0.002
مطلب: منصفانہ سکے کے ساتھ 1,000 میں سے صرف 2 بار اتنا انتہائی نتیجہ آئے گا۔ اتنا کم ہونے پر ہم نتیجہ نکالتے ہیں: سکہ شاید منصفانہ نہیں ہے۔
P-value کیا نہیں ہے
یہاں سب سے عام غلط فہمیاں ہیں:
- P-value اس بات کا امکان نہیں کہ H₀ سچ ہے۔ P-value = 0.03 کا مطلب "H₀ کے سچ ہونے کا 3 فیصد امکان ہے" نہیں ہے۔
- P-value اثر کا حجم نہیں بتاتا۔ بہت چھوٹا P-value بہت چھوٹے فرق سے بھی آ سکتا ہے اگر نمونہ بہت بڑا ہو۔
- P-value < 0.05 کا مطلب "اثر ثابت ہو گیا" نہیں۔ یہ صرف کہتا ہے ثبوت مضبوط ہے، لیکن 100 فیصد یقین نہیں۔
- P-value > 0.05 کا مطلب "کوئی اثر نہیں" نہیں۔ شاید نمونہ چھوٹا تھا۔ ثبوت کی کمی اور ثبوت نہ ہونے میں فرق ہے۔
ایک دوائی کمپنی کی نئی دوائی بخار 0.1 ڈگری کم کرتی ہے۔ 10,000 مریضوں کے نمونے سے P-value = 0.001 آتا ہے۔
"شماریاتی طور پر اہم" - ہاں۔ "عملی طور پر اہم" - بمشکل۔ 0.1 ڈگری کا فرق مریض محسوس بھی نہیں کرے گا۔
P-value نے فرق ثابت کیا لیکن فرق کا حجم اتنا چھوٹا ہے کہ معنی خیز نہیں۔
0.05 کی حد: کہاں سے آئی؟
1920 کی دہائی میں شماریات دان رونالڈ فشر نے 0.05 (5 فیصد) تجویز کیا بطور "حیران کن" نتیجے کی حد۔ یہ کوئی قدرتی قانون نہیں، ایک روایت ہے جو عام استعمال بن گئی۔
مختلف شعبوں میں مختلف حدود استعمال ہوتی ہیں:
- سماجی علوم: عموماً 0.05
- طب: اکثر 0.01 یا 0.001
- ذرات کی طبیعیات: 0.0000003 (پانچ سگما!)
P-value کو صحیح طریقے سے استعمال کرنا
- P-value کو فرق کے حجم کے ساتھ دیکھیں۔ P-value چھوٹا ہے - اچھا - لیکن فرق کتنا بڑا ہے؟
- اعتماد کے وقفے بھی دیکھیں۔ وہ آپ کو بتاتے ہیں فرق کتنا بڑا ہو سکتا ہے۔
- نمونے کا حجم مدنظر رکھیں۔ بہت بڑے نمونے میں ہر چیز "اہم" نکلتی ہے۔
- ایک تجربے پر انحصار نہ کریں۔ نتائج دوبارہ قابل تکرار ہونے چاہیئں۔
ایک زرعی تجربے میں نئی بیج سے فی ایکڑ 3 من زیادہ پیداوار ملتی ہے (P-value = 0.04)۔
P-value < 0.05 تو فرق شماریاتی طور پر اہم ہے۔ فرق کا حجم (3 من) عملی طور پر بھی قابل ذکر ہے - 30 من کی بنیاد پر 10 فیصد اضافہ ہے۔ اور اعتماد کے وقفے بتاتے ہیں فرق 0.5 سے 5.5 من کے درمیان ہے۔
یہ ایک مفید نتیجہ ہے: شماریاتی اور عملی دونوں لحاظ سے اہم۔
P-value بتاتا ہے کہ اگر واقعی کوئی اثر نہ ہوتا تو یہ نتیجہ اتفاق سے آنے کا کتنا امکان تھا۔ چھوٹا P-value (عموماً < 0.05) بتاتا ہے کہ نتیجہ غالباً اتفاق نہیں۔ لیکن P-value اثر کے سچ ہونے کا امکان نہیں بتاتا، اثر کا حجم نہیں بتاتا، اور "ثابت" نہیں کرتا۔ ہمیشہ P-value کے ساتھ اثر کا حجم، اعتماد کے وقفے، اور نمونے کا حجم بھی دیکھیں۔