ٹی ٹیسٹ کی بنیاد

مشکل: درمیانی پڑھنے کا وقت: 15 منٹ

دو گروہوں کا موازنہ

روزمرہ زندگی کے سب سے عام سوالات میں دو چیزوں کا موازنہ شامل ہے۔ کیا یہ تدریسی طریقہ اس سے بہتر ہے؟ کیا لڑکوں اور لڑکیوں کے نمبر مختلف ہیں؟ کیا نئی کھاد سے پیداوار بڑھتی ہے؟

فرق 2.1 5.2 8.3 0

ٹی ٹیسٹ ایسے سوالات کا جواب دینے کے لیے سب سے سادہ اور زیادہ استعمال ہونے والا اوزار ہے۔ یہ فیصلہ کرنے میں مدد کرتا ہے کہ دو گروہوں میں فرق حقیقی ہے - یا محض اتفاق۔

ایک نمونے کا ٹی ٹیسٹ

یہ جانچتا ہے کہ نمونے کی اوسط کسی مقررہ قدر سے مختلف ہے یا نہیں۔

مثال

ایک کوچنگ سینٹر کا دعویٰ ہے کہ ان کے طلبا کی FSc اوسط ملکی اوسط 550 سے زیادہ ہے۔ 30 طلبا کا نمونہ لیا جاتا ہے اور ان کی اوسط 575 آتی ہے (SD = 60)۔

H₀: اوسط = 550

H₁: اوسط > 550

ٹی ٹیسٹ حساب لگاتا ہے: t = (575 - 550) ÷ (60 ÷ √30) = 25 ÷ 10.95 ≈ 2.28

P-value ≈ 0.015۔ چونکہ 0.015 < 0.05، ثبوت ہے کہ کوچنگ سینٹر کے طلبا واقعی بہتر کارکردگی دکھاتے ہیں۔

دو نمونوں کا ٹی ٹیسٹ (آزاد)

یہ دو مختلف گروہوں کی اوسطوں کا موازنہ کرتا ہے۔

مثال

ایک زرعی ادارہ دو قسم کے گندم کے بیجوں کا موازنہ کرنا چاہتا ہے۔

بیج الف: 15 کھیتوں میں اوسط پیداوار 32 من/ایکڑ (SD = 4)

بیج ب: 15 کھیتوں میں اوسط پیداوار 28 من/ایکڑ (SD = 5)

H₀: دونوں بیجوں کی اوسط پیداوار برابر ہے

H₁: دونوں کی اوسط مختلف ہے

دو نمونوں کا ٹی ٹیسٹ فرق (4 من) کو نمونوں کے پھیلاؤ اور حجم کے مقابلے میں دیکھتا ہے تاکہ بتائے کیا یہ فرق اتفاق سے آ سکتا تھا۔

جوڑا بند ٹی ٹیسٹ (Paired)

جب وہی لوگ دو بار ناپے جائیں - پہلے اور بعد - تو جوڑا بند ٹی ٹیسٹ استعمال ہوتا ہے۔

مثال

10 مریضوں کا بلڈ پریشر دوائی لینے سے پہلے اور بعد ناپا جاتا ہے۔

پہلے: 140، 135، 150، 142، 138، 145، 155، 130، 148، 144

بعد: 132، 130، 145، 138، 135، 140، 148، 128، 142، 140

ہر مریض کا فرق نکالیں: -8، -5، -5، -4، -3، -5، -7، -2، -6، -4

اوسط فرق = -4.9۔ سوال: کیا یہ فرق حقیقی ہے یا اتفاق؟ جوڑا بند ٹی ٹیسٹ بتائے گا۔

ٹی ٹیسٹ کب استعمال کریں

  • ڈیٹا عددی (مسلسل) ہونا چاہیے - نمبر، پیداوار، وزن، وقت
  • نمونے بے ترتیب ہونے چاہیئں
  • ڈیٹا تقریباً نارمل تقسیم ہونا چاہیے (یا نمونہ 30+ ہو - CLT کی بدولت)
  • صرف دو گروہوں کا موازنہ (تین یا زیادہ کے لیے ANOVA استعمال ہوتا ہے)

نتائج پڑھنا

ٹی ٹیسٹ آپ کو دو اہم چیزیں دیتا ہے:

-3 -2 -1 0 1 2 3
  • t-value: جتنا بڑا، فرق اتنا زیادہ اوسط پھیلاؤ کے مقابلے میں۔
  • P-value: اگر واقعی فرق نہ ہوتا تو یہ نتیجہ اتفاق سے آنے کا امکان۔
مثال

PSL میں دو بلے بازوں کی سٹرائیک ریٹ کا موازنہ:

بلے باز الف: 15 اننگز، اوسط سٹرائیک ریٹ 142 (SD = 20)

بلے باز ب: 15 اننگز، اوسط سٹرائیک ریٹ 128 (SD = 25)

فرق 14 پوائنٹ ہے۔ ٹی ٹیسٹ بتائے گا کہ 14 کا فرق ان کے اتار چڑھاؤ (SD 20-25) اور 15 اننگز کے نمونے کو دیکھتے ہوئے حقیقی ہے یا اتفاقی۔

اہم نکتہ

ٹی ٹیسٹ دو گروہوں کی اوسطوں میں فرق کی جانچ کا سب سے عام اوزار ہے۔ ایک نمونے کا ٹیسٹ نمونے کا مقررہ قدر سے موازنہ کرتا ہے، دو آزاد نمونوں کا ٹیسٹ دو مختلف گروہوں کا، اور جوڑا بند ٹیسٹ پہلے-بعد کے ڈیٹا کا۔ ٹی ٹیسٹ فرق کو پھیلاؤ اور نمونے کے حجم کے مقابلے میں رکھ کر بتاتا ہے کہ فرق حقیقی ہے یا اتفاقی۔ ہمیشہ P-value کے ساتھ اثر کا حجم بھی دیکھیں۔